اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں اس وقت ایک لاکھ 7 ہزار 677 افراد ایسے ہیں جن کی عمریں 100 سال سے زائد ہیں جو دنیا میں اس عمر کے افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 

جاپان میں سو سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں 88 فیصد خواتین ہیں، ملک کی سب سے معمر خاتون کیوٹو شہر کی 114 سالہ کیشیموتو فیویو ہیں جبکہ سب سے معمر مردکوماموتو کے 112 سالہ کاتو ہیکارو ہیں۔

جاپان کے وزیر صحت کینیچیرو اونو نے طب اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ طویل، صحت مند اور فعال زندگیاں گزار رہے ہیں‘، تاہم وزیر صحت نے ملک میں سماجی تحفظ  کے پائیدار نظام کو برقرار رکھنے کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے بھی خبردار کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرین جاپانی شہریوں کی طویل العمری کی وجہ کئی عوامل کو قرار دیتے ہیں جن میں صحت بخش غذا اور فعال طرز زندگی سرفہرست ہیں، یہاں کے شہریوں کی خوراک میں زیادہ تر مچھلی، سبزیاں اور چاول شامل ہوتے ہیں اور مغربی ممالک کی غذاؤں کے برعکس ان میں سیچوریٹڈ فیٹ کافی کم ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ جاپان کی آبادی برسوں سے تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے وہاں بالغ افراد کے ڈائپرز کی فروخت بچوں کے ڈائپرز کی فروخت سے زیادہ رہی ہے۔

 مارکیٹ کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے کمپنیوں نے بزرگ آبادی کے لیے جدید مصنوعات بھی تیار کی ہیں جن میں جسم کو حرکت دینے میں مدد فراہم کرنے والا ایک 'پاورڈ ایکسو اسکیلیٹن' اور خودکار طریقے سے فوکس ایڈجسٹ کرنے والی جدید عینکیں شامل ہیں۔

اس وقت 65 سال اور اس سے زائد عمر کے شہری جاپان کی کل آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہیں اور توقع ہے کہ 2070 تک یہ شرح بڑھ کر 40 فیصد کے قریب ہو جائے گی۔