عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم پر مبنی نہیں، ہماری دفاعی صلاحیتیں بنیادی طور پر ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کررہا ہے، تاہم پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونے کے مترادف نہیں، پاکستان اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی ضروریات پوری کررہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کو اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں ملک اپنے دفاع کے لیے مؤثر اقدامات کرسکتا ہے۔
ملک کے سیاسی اور عسکری اہداف سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے، ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور ریاست کے اہداف ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں، جبکہ پاکستان کی ترجیحات اور قومی مقاصد سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی، ملکی دفاع اور ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
افغانستان کی صورتحال اور پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے عناصر کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغانستان کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کررہا ہے جو پاکستانی سرزمین پر دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
دوسری جانب حالیہ انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، اس تعاون کا مقصد اجتماعی دفاع اور مشترکہ باز deterrence کو مضبوط بنانا ہے اور اس میں کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم شامل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کا بنیادی مقصد ملکی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی امن کا تحفظ ہے، جبکہ کسی بھی دفاعی تعاون کو جارحانہ اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال، پاک بھارت تعلقات اور افغانستان سے منسلک دہشتگردی کے خدشات مسلسل اہم علاقائی معاملات میں شامل ہیں۔
پاکستانی حکام متعدد مواقع پر یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں ملک کی داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے جاری رہیں گی، جبکہ افغانستان سے متعلق اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔







