وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے مقدس مقام کے قریب پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مقدس مقامات کی سلامتی ہر مسلمان کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے۔

سعودی قیادت کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو اس وقت روک کر تباہ کردیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون کو حرم کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق یہ مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے، جبکہ حوثی گروپ نے مکہ یا مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔ حوثی عہدیدار نے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے مکہ مکرمہ کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی دفاعی نظام نے فوری ردعمل دے کر خطرے کا مقابلہ کیا، پاکستان کے عوام اس واقعے پر تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔

وزیراعظم نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں،مشرق وسطیٰ پہلے ہی طویل تنازعات کے باعث بھاری نقصان اٹھا چکا ہے، اس لیے پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار نے کہا کہ سعودی عرب پر مسلسل حملوں اور یمن میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے علاقائی امن و استحکام اور عالمی معیشت و توانائی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثی سرگرمیوں اور سعودی عرب پر حملوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث سعودی عرب نے مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں میں سیکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔