شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ملک بھر میں بازاروں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، جب کہ سندھ میں بھی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر توانائی کی بچت ناگزیر ہو چکی ہے اور ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹس جلد بند کرنے اور دیگر اقدامات کا مقصد نہ صرف قیمتی زر مبادلہ بچانا بلکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔
شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے مختلف صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کل رات تک ہم بہت پُرامید تھے مگر دونوں فریقوں کے مذاکرات کے مرحلے پر اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، اسحاق ڈار
بریفنگ کے مطابق تیل پر سبسڈی کے مستحق افراد کا ڈیٹا صوبائی حکومتوں سے موصول ہونا شروع ہو گیا ہے اور تصدیق کے بعد ایک شفاف ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے 4 اپریل سے مال بردار گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کو سبسڈی کی فراہمی جاری ہے۔
خیال رہے کہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت متعدد وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور چاروں صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔







