اسلام آباد میں دیوالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں سب کو دیوالی کی شبھ کامنائیں پیش کرنا چاہتا ہوں، دیوالی کے موقع پر پاکستان کی تمام اقلیتوں اور اکثریت کے مذہبی، سیاسی اور سماجی نمائندوں کی یہاں موجودگی تصور پاکستان کی عملی تصویر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام سے لے کر تعمیر پاکستان اور دفاع پاکستان، ہر محاظ پر اقلیتی برادری نے قابل فخر کردار ادا کیا، ہمیں آپ پر فخر اور ناز ہے، آج کا دن اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے، مسلم اور غیر مسلم پاکستانی ملکر وطن عزیز کے خلاف ہونے والے کسی بھی شرانگیزی کا بھرپور مقابلہ کرتے ہیں۔۔

اُن کا کہنا تھا کہ اقلیتیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور قابل مذمت واقعات کو پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ اُن واقعات کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج وہ یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتی برادری نے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں بھی اقلیتوں کی نمائندگی موجود ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ الحمدللہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوش ہو رہی ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے بین المذاہب ہم اہنگی پالیسی کےمنظوری دی جا چکی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہو رہی ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پرائمری سکولوں سے لے کر پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں تک ہر سطح پر وظائف دیے جا رہے ہیں اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت مختلف پروگرامز میں بھی انہیں پوری طرح شامل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے اور اقلیتیوں کو مذہبی تہواروں پر چھٹیاں بھی دی جائیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اجالوں، امن، ہم اہنگی، برداشت اور تحمل کی سرزمین ہے۔ یہاں نفرت فتنہ و فساد انتشار اور دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

آخر میں اُن کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے اندھیروں اور نفرت کی تاریکی کو مٹانے کی جدوجہد میں اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ ایک بار پھر ہندو برادری کو دیوالی کی شبھ کامنائیں پیش کرتے ہیں۔