تفصیلات کے مطابق یہ اتفاقِ رائے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایوف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے ذریعے باضابطہ طور پر طے پایا۔
مشترکہ اعلامیے میں سیاسی، سلامتی، اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جو مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط پر مبنی ہے۔
پاکستان–قازقستان بزنس فورم کا انعقاد، دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات میں وسعت اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 4, 2026
پاکستان–قازقستان بزنس فورم فورم میں پاکستان اور قازقستان کی بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات شریک ہوئیں، جس میں مختلف شعبوں بشمول تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم،… pic.twitter.com/bPeK0OmVP6
اعلامیے میں یاد دلایا گیا کہ پاکستان اُن ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1991 میں قازقستان کی آزادی کو تسلیم کیا تھا۔
اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت دونوں ممالک نے آٹھ ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جن میں سیاسی مکالمہ، سلامتی و دفاع، تجارت و سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت اور میڈیا، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی و بین الاقوامی ہم آہنگی شامل ہیں۔
رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو باقاعدہ بنیادوں پر جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جن میں وزرائے خارجہ کی سطح پر دو سالہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد بھی شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، جب کہ قازقستان کے ای ویزا نظام میں پاکستان کی شمولیت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سلامتی کے شعبے میں دونوں ممالک نے تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا اور دہشت گردی، انتہاپسندی، منظم جرائم، سائبر کرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی ڈائیلاگ کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
براہِ راست: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ اجلاس میں ابتدائی گفتگو https://t.co/pXwlmhEtJh
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 4, 2026
دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں ملزمان کی حوالگی، جرائم کے انسداد اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں مشترکہ تعیناتی سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقوں نے زراعت، توانائی، ٹیکسٹائل، ادویات سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنانس اور دفاعی پیداوار جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے آئندہ چند برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔
رہنماؤں نے ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز تعاون، مالیاتی منڈیوں کے ضوابط اور زرعی شعبے میں تعاون سے متعلق طے پانے والے معاہدوں کا خیرمقدم کیا۔ آستانہ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔
رابطہ کاری کے شعبے میں دونوں ممالک نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں افغانستان اور چین کے راستے شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرانس افغان ریلوے کوریڈور سے متعلق قازقستان کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کی مشترکہ پریس کانفرنس
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 4, 2026
"پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی روابط بھی بہت اہمیت کے حامل… pic.twitter.com/2z03aJMNjk
دونوں رہنماؤں نے براہِ راست پروازوں کی بحالی اور بحری و ڈاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔
تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور آئی ٹی تعاون کی حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا گیا، جن میں ای گورننس، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک، سائبر سیکیورٹی اور خلائی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈیجیٹل ترقی اور ڈیٹا سے متعلق اداروں کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مختلف معاہدے کیے گئے، جن میں پاکستان ٹیلی وژن اور قازق میڈیا اداروں، ثقافتی تنظیموں اور اسپورٹس فیڈریشنز کے درمیان شراکت داری شامل ہے۔ لاہور اور ترکستان، جب کہ فیصل آباد اور شمکنت کے درمیان سسٹر سٹی معاہدوں کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دونوں ممالک نے پانی کے تحفظ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، قابلِ تجدید توانائی، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ منگل کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی قازقستان کے صدر کے… pic.twitter.com/xgJY19Sp4T
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 3, 2026
مشترکہ اعلامیے میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ وسطی اور جنوبی ایشیا میں علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرے گی۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صدر قاسم جومارت توکایوف کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے قازقستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
واضح رہے کہ صدر قاسم جومارت توکایوف منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے، جس میں کابینہ کے سینئر وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ قازقستان کے صدر کے دفتر کی جانب سے جاری ویڈیو میں اسلام آباد کی سڑکوں کو قازقستان کے قومی پرچم سے سجا ہوا دکھایا گیا۔







