سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی تاریخ میں حالیہ دنوں کے دوران متعدد بار تبدیلی کی جا چکی ہے۔ تازہ شیڈول کے مطابق اجلاس آج سہ پہر وزیراعظم ہاؤس میں ہونا تھا، تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان بجٹ تجاویز اور مالی معاملات پر جاری مشاورت کے باعث اسے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان بجٹ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں جماعتیں آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

رات گئے تک جاری رہنے والی ملاقاتوں اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ایک روز کے لیے مؤخر کر دیا جائے تاکہ اتحادی جماعتوں کو اہم مالی اور اقتصادی معاملات پر مزید غور و خوض کا موقع مل سکے۔

نئے شیڈول کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس کل صبح ساڑھے 11 بجے وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس کی صدارت وزیرِاعظم شہباز شریف کریں گے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی پروگرام، وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی ترجیحات اور مجموعی معاشی اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملک کی متوقع شرح نمو، ترقیاتی بجٹ اور دیگر اہم اقتصادی اشاریوں کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگی۔

ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات میں اضافے اور معیشت کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ قومی اقتصادی کونسل کی منظوری کے بعد ان تجاویز کو وفاقی بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی ایک تلخ حقیقت،پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے: شہباز شریف

یاد رہے کہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بجٹ سازی کے عمل میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی فورم پر قومی سطح کے ترقیاتی اہداف، وسائل کی تقسیم اور اقتصادی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام اہم مالی اور ترقیاتی امور پر اتفاقِ رائے قائم کیا جا سکے تاکہ بجٹ کو وسیع سیاسی حمایت حاصل ہو۔