ذرائع کے مطابق سینیٹ اجلاس کے لیے 13 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے جس میں 27ویں آئینی ترمیم شامل نہیں، تاہم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح، قومی اسمبلی اجلاس کا 14 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ترمیمی بل شامل نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کل صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس کرے گی، جس میں وزارتِ قانون و انصاف کی تیار کردہ ترمیمی تجویز پر غور کیا جائے گا۔
کابینہ کی منظوری کے بعد یہ ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239 کے مطابق، آئینی ترمیم کے لیے سخت پارلیمانی طریقہ کار طے ہے، جس کے تحت بل سینیٹ میں بحث کے
بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا اور بعد ازاں سینیٹ و قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹیوں میں اس پر منظوری حاصل کی جائے گی۔
دوسری جانب سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ نے کل ہونے والے اجلاسوں کا ایجنڈا جاری کردیا ہے، جس کے مطابق حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی بل 2023 واپس لینے کے لیے تحریک پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 14 نکاتی ایجنڈا جب کہ سینیٹ سیکریٹریٹ نے 13 نکاتی ایجنڈا جاری کیا ہے۔ جاری شدہ ایجنڈوں کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کسی بھی ایوان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔
سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں فیڈرل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2025، سی ڈی اے ترمیمی بل 2025 اور نیشنل اسکول فار پبلک پالیسی ترمیمی بل پر قانون سازی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے نیب ترمیمی بل 2023 واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس مقصد کے لیے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سینیٹ اجلاس میں رولز 115 کے تحت بل واپس لینے کی تحریک پیش کریں گے۔







