وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو پٹرولیم ڈویژن سے متعلق امور پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تیل و گیس کی سپلائی چین کو ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کیا جائے۔ سپلائی چین کی ڈیجیٹائزیشن سے تیل و گیس مصنوعات کی سمگلنگ کی مؤثر روک تھام ممکن ہو گی جس سے قومی خزانے کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

اجلاس میں وزیراعظم کو پٹرولیم و گیس سیکٹر کے روڈ میپ پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ کے ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ انہوں نے ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد دی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4 ہزار 100 بیرل تیل حاصل کیا جا سکے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ رواں سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو گزشتہ سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ آر ایل این جی کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے اور جون 2026 تک 3 لاکھ 50 ہزار کنکشنز کا ہدف مکمل کر لیا جائے گا۔ بریفنگ کے مطابق شیوا گیس فیلڈ اور بٹانی گیس فیلڈ کے لیے پائپ لائنز کو کمیشن کر دیا گیا ہے، جب کہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن کی تنصیب پر کام جاری ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تیل و گیس کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے تاکہ توانائی کے شعبے کو مستحکم اور معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔