وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ ذیلی کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں منظور شدہ سفارشات پر عمل درآمد کی رفتار اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں حکام کی جانب سے رائٹ سائزنگ کے مختلف مراحل میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کا عمل مجموعی طور پر 8 مراحل میں جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق پہلے چار مراحل کی سفارشات کابینہ کی منظوری کے بعد بڑی حد تک آگے بڑھ چکی ہیں، جبکہ ان سفارشات پر مزید عمل درآمد اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے فالو اَپ جاری ہے۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ رائٹ سائزنگ کے پانچویں اور چھٹے مراحل سے متعلق سفارشات بھی تیار کرکے متعلقہ حکام کو بھجوائی جاچکی ہیں، جبکہ ساتویں اور آٹھویں مراحل پر کام جاری ہے
اجلاس میں حکومتی اداروں کے حجم، اخراجات اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس دوران سرکاری شعبے کے افعال اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے عمل کو محض سفارشات تک محدود رکھنے کے بجائے فیصلہ کن انداز میں عملی اقدامات کی طرف لے جایا جائے
انہوں نے کہا کہ رائٹ سائزنگ کا بنیادی مقصد سرکاری امور کی کارکردگی بہتر بنانا، غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا اور پیداوار و سروس ڈیلیوری میں بہتری پیدا کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے حکومتی امور میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ رائٹ سائزنگ کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مستقل بچت کا باقاعدہ اور واضح تعین کیا جائے تاکہ اس عمل کے مالی فوائد کا درست اندازہ لگایا جاسکے
انہوں نے کہا کہ اداروں کے حجم یا ملازمین کی تعداد کو کارکردگی کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، بلکہ اداروں کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سروسز کا معیار بنیادی معیار ہونا چاہیے
اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے انجام دیے جانے والے تمام افعال کا ازسرنو جائزہ لینے پر بھی غور کیا گیا۔ اس ضمن میں تجویز دی گئی کہ حکومتی وسائل کو ضروری اور بنیادی سرکاری امور تک محدود رکھا جائے تاکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔
حکام نے رائٹ سائزنگ کے آئندہ مراحل کی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور سفارشات پر عمل درآمد کو مزید تیز کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔







