سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے کے واقعے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جب کہ لاہور کے حفیظ سینٹر میں تین مرتبہ آگ لگی، لیکن ان واقعات پر سیاست نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آگ ہے، ہو جاتی ہے، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر صوبوں، اٹھارویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک بات پہنچا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ایک قدیم خطہ ہے، جس کی تاریخ قبل از مسیح دور تک جاتی ہے۔
شہلا رضا نے کہا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ واحد صوبہ ہے جس نے مہاجرین کو دل کھول کر خوش آمدید کہا۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ مختلف مقامات پر لگی تھی، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون سا کیمیکل استعمال کیا گیا تھا کہ پانی ڈالنے کے باوجود آگ نہیں بجھ رہی تھی۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ گل پلازہ کے چوبیس داخلی اور خارجی راستے کیوں بند تھے؟
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ ٹریفک کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، تاہم بلدیاتی نظام کی آڑ میں آج کئی اندرونی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ کون سا موقع ہے کہ آج اپنے دل کی بھڑاس نکالی جائے؟ جو بھی تحفظات یا حسرتیں ہیں، انہیں مناسب طریقے سے سامنے لایا جائے۔







