لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت رمضان میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی مصنوعی مہنگائی یا ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کوئی دکاندار یا ایجنٹ قیمتوں میں اضافہ کرتا پایا گیا تو اس کی دکان کم از کم تین روز کے لیے سیل کر دی جائے گی جبکہ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پرائس کنٹرول کے لیے خصوصی پیرا فورس پورے رمضان متحرک رہے گی، جو مارکیٹوں میں گشت کر کے نرخوں کی نگرانی کرے گی، جو بھی ایجنٹ غیر قانونی طور پر اضافی رقم طلب کرے گا یا سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مریم نواز نے اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں خصوصی سہولت بازار قائم کیے جا رہے ہیں جہاں اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوم ڈیلیوری سروس بھی فعال کی جا رہی ہے تاکہ بزرگ شہریوں اور خواتین کو بازار جانے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور آسٹریا کا تجارت، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو رمضان کے دوران مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ مزدور کارڈ رکھنے والے افراد کو 7 ہزار روپے اضافی دیے جائیں گے جبکہ دیگر مستحق خاندانوں کے لیے ’مریم کو بتائیں‘ ہیلپ لائن اور آن لائن پورٹل فعال کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق شہری صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کریں گے اور 24 گھنٹوں کے اندر امدادی رقم منتقل کر دی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ رمضان المبارک کے دوران ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اور تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتالوں میں افطار دسترخوان کا اہتمام کیا جائے تاکہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات جو افطار دسترخوان لگائیں گے انہیں سرکاری سطح پر تعریفی سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی کہ غربا و مساکین میں تقسیم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی شہری کو مالی معاونت یا ضروری سہولت سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پرائس کنٹرول آپریشن پورے مہینے جاری رکھا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔

سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق رمضان میں مہنگائی پر قابو پانا حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا، تاہم حکومتی اقدامات سے عوام کو کسی حد تک ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔