پاکستان محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر زئیغم نے بتایا کہ ایل نینو عام طور پر برصغیر میں گرمیوں کے مون سون کو کمزور کر دیتا ہے، جس کے باعث بارشوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سپر ایل نینو تشکیل پا گیا تو 2027 عالمی سطح پر گرم ترین سال بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے اثرات وقت کے ساتھ زیادہ شدت اختیار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ال نینو اور اس کے برعکس لا نینا بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے موسمی پیٹرنز ہیں جو دنیا بھر کے موسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ مظاہر ہر دو سے سات سال کے درمیان وقوع پذیر ہوتے ہیں، تاہم ان کا کوئی باقاعدہ شیڈول نہیں ہوتا۔
IMD’s first-stage forecast pegs the 2026 southwest monsoon at 92% of the long-period average, the weakest initial projection in at least 25 years.
— Fortune India (@FortuneIndia) April 15, 2026
(@iamsubhojit reports)#IMD #Monsoon #ICRA https://t.co/FL1RgCfB64
امریکی ادارے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران ایل نینو بننے کے 50 سے 60 فیصد امکانات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سال کے دوسرے نصف میں بنتا ہے تو اس کے اثرات 2027 میں زیادہ شدت سے ظاہر ہوں گے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق ایک طاقتور ایل نینو نہ صرف عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ کر سکتا ہے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں شدید بارشوں، سیلاب یا خشک سالی جیسے اثرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں، خصوصاً سندھ میں آئندہ دنوں کے دوران گرم اور خشک موسم برقرار رہے گا۔ کراچی میں درجہ حرارت 36 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، جبکہ نمی کا تناسب صبح کے وقت 80 فیصد تک رہ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہو جاتے ہیں، جس سے ہواؤں اور بارشوں کے عالمی نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سال عموماً دنیا کے گرم ترین سالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ آخری ایل نینو 2023-2024 میں آیا تھا، جس کے باعث 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا تھا۔







