ڈڈیال آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے یہ سب سے اہم انتخابات ہیں اور یہ ریاستِ پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان ہیں۔
لائیو: پاکستان پیپلزپارٹی کا آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ڈڈیال میں جلسہ عام https://t.co/RyRVbDCOxt
— PPP (@MediaCellPPP) July 17, 2026
انہوں نے کہا کہ جس انداز میں کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچنی چاہیے تھی، سیاستدان یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکے، جب کہ جب بھی سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو غیر جمہوری قوتیں مداخلت کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہر کشمیری اور ہر پاکستانی پریشان ہے۔ بے نظیر بھٹو نے ہمیں سکھایا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا خون گرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں نے انہیں خط لکھا تھا، جس پر انہوں نے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کمیشن قائم ہو جائے تو وہ احتجاج کرنے والوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کریں گے، تاہم ان کی اس تجویز پر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والوں نے کوئی غلطی کی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن چند افراد کے جرم کی سزا پورے کشمیر کو دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عام کشمیریوں کو کاروبار اور روزمرہ زندگی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ڈڈیال میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں۔@BBhuttoZardari #DadyalMeinTeerChaleyGa pic.twitter.com/8ggQ4v88QR
— PPP (@MediaCellPPP) July 17, 2026
انہوں نے کہاکہ اگر ریاستِ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے اور آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو بند کشمیر کو بھی کھلوائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو گجرات کا قصائی کہا تھا، جس کے بعد بھارت نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر دی تھی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کشمیریوں کی سرزمین پر بھارت کے قبضے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں اور ووٹ سے متعلق فیصلہ آئینی اداروں کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں مقابلہ دو جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، کے درمیان ہے اور اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔
بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جماعت راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کو بھی کشمیر کا حصہ نہیں مانتی۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ آیا وفاقی حکومت کی کشمیر سے متعلق پالیسی وہی ہے جو وزیر دفاع بیان کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کی 12 نشستیں ان کی جیب میں ہیں، اور جب سوچ ایسی ہو تو انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ کوٹلی، راولاکوٹ یا دیگر علاقوں سے کون کامیاب ہوتا ہے۔






