آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہوئے، جس کے بعد انہیں فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا،وہ اس وقت ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں اور ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف منگل کی علی الصبح تقریباً ساڑھے چار بجے اپنے گھر کے واش روم میں پھسل کر گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں ان کے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں جبکہ سر پر بھی زخم آیا۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتیاطی طور پر انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے تاکہ مکمل طبی معائنہ اور نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔
سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ باتھ روم میں گر گئے سر میں شدید چوٹیں آئیں ان کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے
— Atif Rauf (@Atifrauf79) February 11, 2026
pic.twitter.com/XOdObtvgk4
آئی ایس پی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور سابق آرمی چیف کی صحت سے متعلق مستند معلومات کے لیے سرکاری اعلامیوں پر انحصار کریں۔ ترجمان کے مطابق ان کی حالت تسلی بخش ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم مکمل توجہ کے ساتھ علاج معالجہ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے زخمی ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، جس کے بعد سرکاری سطح پر اس کی تصدیق کی گئی۔
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2016 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے پاک فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں 2019 میں انہیں تین سال کی توسیع دی گئی۔ وہ 29 نومبر 2022 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے، جس کے بعد جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھالی، جو اس وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
سابق آرمی چیف کی جلد صحتیابی کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔







