عدالت کے فیصلے کے باوجود نجف حمید کو گرفتار نہیں کیا جا سکا کیونکہ وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس سے قبل عدالت نے ضمانت منسوخی کی درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے دوران نجف حمید اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے پراسیکیوٹر نے دلائل دیے۔
دورانِ سماعت ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ زیرِ بحث ریکارڈ ریاستی تحویل میں تھا، جس میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق یہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے اور محض شکایت کنندہ کے ساتھ معاملات طے پا جانے کی صورت میں بھی ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مزید تفتیش کے لیے نجف حمید کی جسمانی تحویل ضروری ہے، تاکہ مبینہ فراڈ اور ریکارڈ میں ردوبدل سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں قانون کے مطابق گرفتار کرنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے ایف آئی اے کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ضمانت منسوخی کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر سکتے ہیں۔
یہ کیس سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے قریبی رشتہ دار سے متعلق ہونے کے باعث پہلے ہی خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد اس معاملے میں پیش رفت کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔







