سینئر وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے 9 نومبر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 1956 میں اپنے قیام کے بعد آج سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے۔
اس خط پر جسٹس (ر) مشیر عالم، جسٹس (ر) ندیم اختر، منیر اے ملک، انور منصور خان، مخدوم علی خان، عابد زبیری، اکرم شیخ، علی احمد کرد، خواجہ احمد حسین، صلاح الدین احمد اور دیگر سینئر وکلا کے دستخط موجود ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم وفاقی اپیلیٹ کورٹ کے ڈھانچے میں سب سے بڑی اور بنیادی تبدیلی ہے جو سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار کو محدود کر دے گی۔
سابق ججز اور وکلا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی سول یا فوجی حکومت نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ سپریم کورٹ کو ماتحت عدالت بنا دیا جائے، مگر مجوزہ ترمیم کے ذریعے یہی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مؤدبانہ انداز میں کہا کہ اگر چیف جسٹس اس رائے سے متفق ہیں کہ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے لیے سب سے بڑی تبدیلی ہے تو فل کورٹ میٹنگ فوری طور پر بلائی جائے، تاکہ حکومت کو عدلیہ کی رائے دی جا سکے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اگر عدالت نے اسے قانون سازی میں مداخلت سمجھ کر مسترد کیا تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سپریم کورٹ اپنی خودمختاری سے دستبردار ہو رہی ہے۔
سابق ججز اور وکلا نے خبردار کیا کہ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے درجے سے محروم ہو جائے گی، کیونکہ نئی مجوزہ وفاقی آئینی عدالت آئینی امور پر فیصلے دے گی جو سپریم کورٹ پر بھی لازم ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ایاز صادق کا آئینی استثنیٰ سے انکار؛ "عوام کا نمائندہ پہلے، عہدیدار بعد میں ہوں"
ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو ازخود نوٹس، آئینی تشریحات، وفاق و صوبوں کے تنازعات اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا اختیار حاصل ہوگا، جب کہ سپریم کورٹ کو صرف دیوانی اور فوجداری اپیلوں تک محدود کیا جائے گا۔
خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے ادارے کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ یہ سپریم کورٹ کے بطور اعلیٰ ترین عدالتی ادارے خاتمے کا آغاز تصور کیا جائے گا۔







