ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کشمیر کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے کیونکہ تمام مسائل کا واحد حل بات چیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر جانے والی اشیائے خورونوش کی ترسیل کو نہیں روکا جانا چاہیے اور پاکستان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر جا کر مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرے۔
شاہد خاقان عباسی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ حکومت نہ اپنی مرضی سے پیٹرول کی قیمت بڑھا سکتی ہے اور نہ کم، کیونکہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق ہوتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ مل سکے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جانی چاہیے کیونکہ اس کا بوجھ ایسے شہری بھی اٹھا رہے ہیں جن کی آمدن ٹیکس کے دائرے میں بھی نہیں آتی۔ حکومت پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرکے اسے برقرار رکھے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے: حافظ نعیم
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیوں پر نظرثانی کی جائے اور عوام کو فوری معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا ہے اور پاکستان کشمیر کا، اس لیے آزاد کشمیر کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر کے مسئلے پر اپنا قومی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور حکومت کو بھی مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔






