کانگریشنل ریسرچ سروس کی 5 اکتوبر کو نظرثانی شدہ رپورٹ کے مطابق امریکا نے اسرائیل کے تعاون سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے دوران مشرق وسطیٰ میں فضائی، بحری اور میزائل حملے کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوج کے 81 فکسڈ ونگ اور روٹری ونگ طیارے، جن میں بغیر پائلٹ ڈرون بھی شامل ہیں، تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع، امریکی سینٹرل کمانڈ، محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل اور میڈیا رپورٹس سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ طیاروں کی تعداد حتمی نہیں سمجھی جاسکتی اور جنگی صورتحال، بعض معلومات کی درجہ بندی اور طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری کے تعین سمیت مختلف عوامل کے باعث اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق بعض طیارے نقصان پہنچنے کے باوجود دوبارہ فعال کیے جاچکے ہیں، اس لیے 81 طیاروں کا مطلب یہ نہیں کہ تمام طیارے مستقل طور پر امریکی فضائی بیڑے سے خارج ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کے بجٹ آفس نے ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہونے والے فوجی سازوسامان کی تبدیلی پر 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک لاگت آسکتی ہے۔ لاگت کا حتمی حجم اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکی محکمہ دفاع تباہ یا متاثر ہونے والے سازوسامان کی کس طرح اور کس حد تک جگہ لیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل میں جنگ بندی کے بعد کچھ عرصے کے لیے فوجی کارروائیوں میں کمی آئی تھی، تاہم چند ہفتوں بعد حملے دوبارہ شروع ہوگئے اور صورتحال اب بھی تبدیل ہورہی ہے۔