ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 83 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو اہلکار جلی ہوئی عمارت کے مختلف حصوں میں داخل ہوچکے ہیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے، مگر لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی واضح اطلاع نہیں دی جا رہی۔ اہل خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ریسکیو ورکرز مکمل تعاون کے بجائے زیادہ تر عمارت پر پانی مارنے تک محدود ہیں۔
لاپتا دکاندار انس کے والد عمران کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار اندر جانے سے گریز کرتے رہے، اور جب اہل خانہ نے خود اندر جانے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیا گیا۔ انس کی والدہ اور اہلیہ پہلے روز سے پلازہ کے باہر موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انس کی تلاش کے بغیر وہ واپس نہیں جائیں گی۔
تاجر برادری نے بھی ریسکیو آپریشن کی سست رفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تاجر رہنما جمیل پراچہ نے انتظامیہ کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک لاپتا افراد کا سراغ نہ لگایا گیا تو تاجر خود عمارت میں داخل ہونے پر مجبور ہوں گے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں لاپتا افراد کی فہرست آویزاں کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 29 لاپتا افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ اور اس کے اطراف میں آخری بار موصول ہوئی تھی۔ جاں بحق ہونے والے 18 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ باقی لاشیں ناقابل شناخت حالت میں ہیں۔
سول اسپتال کراچی میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے جاچکے ہیں جبکہ 48 خاندانوں نے اپنے نمونے جمع کروا دیے ہیں۔ ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق یہ نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی بھجوائے گئے ہیں جہاں آئندہ تین روز تک کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا۔ ناقابل شناخت لاشیں ایدھی فاؤنڈیشن کے سردخانے منتقل کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو آپریشن کے دوران گل پلازہ کی چھت سے سات گاڑیاں اتار لی گئی ہیں، جن میں سے دو گاڑیاں محفوظ حالت میں مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ایک تاجر عامر کے مطابق حیران کن طور پر ان کی دونوں گاڑیاں محفوظ رہیں، تاہم ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
متاثرہ دکانداروں نے بتایا ہے کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 26 داخلی اور خارجی دروازے موجود تھے، مگر رات 10 بجے کے بعد صرف دو دروازے کھلے رکھے جاتے تھے۔ سانحے کے وقت 24 دروازے بند تھے اور کوئی ایمرجنسی ایگزٹ دستیاب نہیں تھا۔ آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، عمارت دھوئیں سے بھر چکی تھی اور اندھیرے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی، جس میں کئی افراد بے ہوش ہو کر گر پڑے جبکہ متعدد کو دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا۔
گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے جس میں جمع کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ یہ سانحہ نہ صرف درجنوں خاندانوں کے لیے المیہ بن گیا ہے بلکہ شہر میں حفاظتی انتظامات اور ایمرجنسی رسپانس پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔







