تحریک لبیک کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 13 اکتوبر 2025 کو مریدکے میں پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد کارکنان جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ پارٹی نے اس واقعے کو سانحہ جلیانوالہ باغ کی یاد تازہ کرنے والا ظلم قرار دیا ہے۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ واقعے کی ذمہ داری اعلیٰ حکومتی اور پولیس عہدیداروں پر عائد ہوتی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ قتل عام کی واضح ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات موجود ہیں، لیکن حکومتی نمائندے مسلسل جھوٹے بیانات کے ذریعے حقائق چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سانحہ مریدکے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد پیش کریں۔ پارٹی کے مطابق اس قرارداد میں واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داران کی برطرفی اور متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ شامل ہونا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی شہدا کے لواحقین کے لیے انصاف، زخمیوں کے علاج، سیل شدہ مساجد و مدارس کی بحالی اور گرفتار کارکنان کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، جو مریدکے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد کی فہرست جاری کرے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو یہ واقعہ ریاستی جبر کی ایک اور مثال کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال تحریک لبیک پاکستان کے الزامات یا مطالبات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔