عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے، اس پر ہونے والا کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
روئٹرز کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستان نے رواں سال سعودی عرب پر ایران کے حملوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا میں واقع ایئرپورٹ کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد حوثی ملیشیا نے ایک بیان میں سعودی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام ایئرلائنز کو خبردار کیا کہ وہ ان کے انتباہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیں۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی یہ کارروائی یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے ایک روز قبل حوثیوں کے زیرِ انتظام صنعا ایئرپورٹ پر کیے گئے حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر ہونے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثی ملیشیا کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کا یہ دہشت گردانہ حملہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور معصوم شہریوں سمیت اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوششوں کا ثبوت ہیں۔






