اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ ایمان، اعتماد، تاریخ اور برادرانہ رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہایت ذمہ دارانہ اور متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا، ایک طرف اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری تھیں، ایسے نازک حالات میں پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت کے ساتھ مختلف سفارتی رابطوں میں واضح پیغام دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے “ریڈ لائن” کی حیثیت رکھتی ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی غفلت یا خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے عالمی برادری، اسلامی ممالک اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے رکھ، پاکستان کی اولین ترجیح ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد، استحکام اور امن کو فروغ دینا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں موجود معاہدے باہمی اعتماد کا ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ تعلق مزید مستحکم ہوگا۔
مزید پڑھیں: امید ہے کہ امریکا-ایران مذاکرات جلد پائیدار امن میں تبدیل ہوں گے: شہباز شریف
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے جنگ بندی کیلئے بھرپور سفارتی کوششیں کیں اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیز فائر مستقل جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آج دفاعی، سفارتی اور معاشی اعتبار سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن عناصر پاکستان یا اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کے مفادات کا تحفظ، خطے میں امن کا قیام اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب سمیت تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔







