بدھ کی صبح کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای-100 انڈیکس 169,922 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، جو 4,287 پوائنٹس یا 2.59 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ میں سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری کے شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔

اہم حصص جن میں اٹک ریفائنری، پاکستان ریفائنری، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم، ماری پیٹرولیم، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں، سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

یہ تیزی اس اعلان کے بعد آئی کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس فراہم کرے گا، جبکہ 5 ارب ڈالر کے موجودہ ڈپازٹ کو بھی طویل مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں زبردست بحالی دیکھی گئی تھی، جب کے ایس ای-100 انڈیکس 165,634 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 5,043 پوائنٹس یا 3.14 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی امیدیں تھیں۔

عالمی سطح پر بھی ایشیائی منڈیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں نے ممکنہ مذاکرات کی بحالی پر مثبت ردعمل دیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے استحکام نے مالیاتی منڈیوں کو سہارا دیا، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔