پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم یہاں ایک خاندان کی طرح بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار وہ 1960 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب گئے تھے، اس کے بعد متعدد دورے کیے، مگر حالیہ دورۂ ریاض بالکل منفرد ثابت ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی بھائیوں اور بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بے مثال محبت کا مظاہرہ کیا، سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیر متزلزل اور پائیدار عزم پر مبنی ہے، جو ہمارے باہمی تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ دراصل برادرانہ تعلقات کی ایک باقاعدہ شکل ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ “ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے محافظ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔”
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تعلقات کو کاروبار اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر مستحکم کیا جائے گا۔ ہم تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو فروغ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، اگر ہم مل کر کام کریں تو عالمی برادری میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی متحرک اور وژنری قیادت نے سعودی معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، آج ہمیں سعودی عرب سے سیکھنے اور اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر پاک–سعودیہ مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کہا کہ وہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان آمد سے قبل سعودی عرب کے تمام اہم وزرا سے ملاقاتیں کی گئیں اور انہیں پاکستان میں ممکنہ اسٹریٹجک منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔
شہزادہ منصور بن محمد کا کہنا تھا کہ سعودی کاروباری طبقے کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ “جن شعبوں پر وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا ہے، ہم بھی انہی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔”
واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد، شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں، اسلام آباد پہنچا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ معاشی روابط اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردِعمل دینے کا عہد کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور ان کے ہمراہ آنے والا وفد پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ اعلیٰ سرکاری حکام، چیمبرز آف کامرس اور معروف کاروباری گروپوں سے مشاورت بھی کرے گا تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔






