ذرائع کے مطابق سعودی وزیر خارجہ کا یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال اور پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون بڑھانے کے مقصد سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ روز دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کیں اور خطے میں ایران سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان میں آج ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر اتفاق رائے قائم کرنا ہے۔ اجلاس میں ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرات، سلامتی کے خدشات، توانائی کی سلامتی اور علاقائی تجارت جیسے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے بلکہ پاکستان کے سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس دوران شرکت کرنے والے ممالک کی قیادت کا مقصد تعاون اور اتفاق رائے کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانا اور خطے میں امن کی فضا قائم رکھنا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ فرحان بن فیصل نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ باہمی تعلقات مضبوط کرنے اور مستقبل میں تعاون کے مختلف شعبوں کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی جانب سے بھی امید ظاہر کی گئی ہے کہ اجلاس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے اور تجارتی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔







