انہوں نے کہا کہ پاکستان داخلی اور خارجی محاذوں پر سنگین بحران کا شکار ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری نہ ہونا، خیبر پختون خواہ میں امن کی کمزوری، بلوچستان میں بنیادی حقوق کی کمی اور سندھ میں ڈاکو راج کا پھیلاؤ ایک متحد حکمت عملی کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پنجاب میں پولیس کلچر کی خراب صورتحال اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے ڈرگ مافیا، ٹرک مافیا اور تعلیمی اداروں میں منشیات کی تقسیم کے معاملات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منظم نیٹ ورک حکومت اور بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ نوجوانوں کو منشیات میں دھکیل کر ان کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ایک قومی مہم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کو امریکی اثر و رسوخ کی غلامی قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حکمران بیرونی دباؤ میں فیصلے کر کے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حافظ نعیم نے معاشی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ عام عوام پر بوجھ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے اساتذہ کی پرموشن پر اچانک نوٹس کیوں لیا؟


بلدیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر جماعتی نظام عوامی اختیارات پر قبضہ برقرار رکھنے کا حربہ ہے اور صوبائی حکومت کے پاس تمام اختیارات مرکوز ہیں۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی سات دسمبر کو پنجاب بھر میں احتجاج کرے گی اور بعد ازاں عوامی ریفرنڈم، دستخطی مہم، سیمینارز اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے شعور اجاگر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کے لیے بنو قابل زی کنیکٹ پروگرام، اسکل ڈیولپمنٹ، آئی ٹی تربیت، اسپورٹس اور یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے انہیں بااختیار بنا رہی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ سندھ میں ڈاکو راج کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، کراچی کے شہری مسائل یا اندرون سندھ کے عوام کی مشکلات پر جماعت اسلامی ہر سطح پر آواز بلند کر رہی ہے۔ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں بھی عوامی مسائل پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر بھی نئے منصفانہ نظام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ 42 ملکوں کے وفود نے موجودہ عالمی نظام کو جانبدار اور استحصالی قرار دیا اور ایک منصفانہ عالمی ڈھانچے کے قیام پر اتفاق کیا۔

حافظ نعیم نے واضح کیا کہ سات دسمبر کو پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف احتجاج ہوگا اور عوامی مسائل پر مزید استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔