اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر توانائی و پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور سیکرٹری خزانہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔

اجلاس کے دوران عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔ وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دیگر شعبوں پر اثرات کو کم کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں سرکاری اخراجات میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کفایت شعاری مہم پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے اس کے پاکستان کی سلامتی، معاشی مستقبل اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ان ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے اور تمام پالیسی فیصلے عوامی مفاد اور قومی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

شرکاء نے قومی اتفاقِ رائے کو برقرار رکھنے اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ معاشی نظم و نسق، توانائی کی منصوبہ بندی اور سکیورٹی امور میں یکساں سمت اختیار کی جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال اور گاڑیوں کے مشترکہ استعمال (شیئرڈ رائیڈ سسٹم) کی ترغیب دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ملکی وسائل پر دباؤ کم کیا جا سکے۔