حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پورے خطے میں جنگی صورتحال سنگین ہو چکی ہے اور ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو چھ ہفتے گزر چکے ہیں، جو عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کو فوری نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ دنیا غیر ذمہ دار قیادت کے حوالے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ڈٹ کر امریکی و اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اسرائیل کے اشاروں پر عمل کر رہا ہے اور گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 1968 کے بعد پہلی بار مسجد اقصیٰ مکمل طور پر بند کی گئی، مگر اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم حکمران خاموش ہیں۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فلسطین اور غزہ کے معاملے پر بھرپور کردار ادا کرے، کیونکہ اسرائیل فلسطینی عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
معاشی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پر لیوی اور دیگر ٹیکس فوری ختم کیے جائیں، حکومت ریلیف کے نام پر صرف ڈرامہ کر رہی ہے، اور ہر یونٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی بجلی گھروں کے معاہدے ختم کیے جائیں، مائع قدرتی گیس کی غیر دستیابی کے باوجود ادائیگیاں بند کی جائیں اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ عوام دشمن ثابت ہو سکتا ہے، اور بجلی پر مزید ٹیکس لگانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مزاحمت کی جائے گی۔
کراچی میں حالیہ بارشوں کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ناکامی اور کارکردگی کی کمی بے نقاب کر دی، جبکہ جماعت اسلامی کے علاقوں نے بہتر انتظامی کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے زیر انتظام کراچی ترقی نہیں کر سکتا، اور جماعت اسلامی ہی شہر اور ملک کو ترقی دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حافظ نعیم الرحمان کے بیانات نہایت حساس ہیں، اور انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوامی فلاح اور ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے تاکہ معاشی اور سیاسی استحکام برقرار رہے۔







