کراچی میں مالی سال 27-2026 کے صوبائی بجٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ کی مختلف خصوصیات، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مالی ترجیحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 2023 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے، آئندہ مالی سال میں کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اداروں کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، ایس آئی یو ٹی کو 26 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد گرانٹ دی جائے گی، جبکہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آئندہ مالی سال کے دوران 2056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اسی وجہ سے اس بجٹ میں نئی اسکیمیں شامل نہیں کی گئیں، زیر تکمیل منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے عوام کو ان کے ثمرات پہنچائے جائیں۔
مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش، عام عوام کے لیے کیا کچھ ہے؟
مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح ہدایت دی ہے کہ اب ترقیاتی حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دیا جائے، پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ محدود نوعیت کے منصوبوں کے بجائے ایسے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں جو معیشت، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی دور اندیش پالیسیوں کے باعث آنے والے دو برسوں میں صوبے اور ملک کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے، سندھ حکومت مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے ترقیاتی اہداف پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے این ایف سی کے موجودہ فارمولے میں تبدیلی کی تجاویز سامنے آئیں، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ آئین کی روح اور صوبائی حقوق کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع، قومی سلامتی اور یکجہتی کے تقاضوں کے تحت تمام صوبوں نے وفاق کے ساتھ تعاون کیا۔ آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں نے وفاق کو مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں سندھ حکومت نے بھی اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے حصہ ڈالا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کا ٹیکس فری بجٹ 2026-27 پیش، کن شعبوں کے لیے کتنی رقم رکھی گئی؟
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا، تاہم صوبوں کو اس کے لیے مالی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نئی مالی حکمت عملی، بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے آنے والے برسوں میں سندھ کی ترقی کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔







