ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین موجودہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے دوران ابوظہبی کی سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
ان کے مطابق فریقین نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے، تجارتی حجم میں اضافہ کرنے اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا،صدر زرداری کا دورہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو نئی رفتار دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ اسی طرح گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس میں شرکت کی جہاں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے یو اے ای کا دورہ کیا اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں ممکنہ سرمایہ کاری پر بات چیت کی۔
انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کا موجودہ یو اے ای دورہ سرمایہ کاری، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تمام اہم دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے جاری ٹریول ایڈوائزری سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں اور بعض پرانی سفری ہدایات واپس بھی لی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، تاہم تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ایران سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور کسی بھی قسم کے تصادم یا اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط ہیں اور دونوں کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔







