سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ قومی اعزاز وزیرِاعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر مملکت نے منظور کیا۔ فیصلے کے بعد ملک بھر میں لیاقت شہید کی بہادری کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے لیاقت شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام شہری نے اپنی جان قربان کرکے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ٹال دیا، جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے مطابق لیاقت شہید کی جرات اور فرض شناسی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیاقت شہید نے اپنی جان قربان کرکے جو جرات اور حوصلہ دکھایا وہ قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پوری قوم اپنے اس بہادر بیٹے کو سلام پیش کرتی ہے جس نے اپنی جان دے کر درجنوں جانیں بچا لیں اور ایک بڑے سانحے کو رونما ہونے سے روک دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعہ پنجاب کے تحصیل جنڈ اور خیبر پختونخوا کے خوشحال گڑھ پل کے درمیان سرحدی علاقے میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا خودکش حملہ آور مشکوک حالت میں قریبی کھیتوں سے گزر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: لکی مروت میں خودکش حملے میں نو افراد جان سے گئے، 37 زخمی

 لیاقت، جو پاکستان ریلویز کے ریٹائرڈ ملازم اور مقامی رہائشی تھے، نے مشتبہ شخص کو روکا اور اس سے شناخت طلب کی۔ اسی دوران حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں لیاقت شہید موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔