سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ہیلتھ انسپکٹر مبشر اقبال ظفر کا تبادلہ ڈیرہ نواب صاحب کرنے کا حکم ویڈ لاک پالیسی کے منافی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے تفصیلی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ویڈ لاک پالیسی کا بنیادی مقصد شادی شدہ ملازمین کو ایک ہی اسٹیشن پر تعینات رکھنے میں سہولت دینا ہے اور محکمے اس پالیسی کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرسکتے۔
فیصلہ میں کہا گیا کہ پالیسی بذاتِ خود مطلق حق نہیں، تاہم یہ ملازمین کے لیے ایک مضبوط اور جائز توقع پیدا کرتی ہے کہ میاں بیوی کو زیادہ سے زیادہ ایک ہی جگہ تعیناتی دی جائے، خصوصاً جب طبی بنیادیں موجود ہوں۔
درخواست گزار مبشر اقبال ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ شوگر کے مریض ہیں، جب کہ ان کی اہلیہ (گریڈ 14) دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور عبدالحکیم میں تعینات ہیں، جہاں دو کمسن بچوں کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب میڈیکل بورڈ نے بھی ان کی اہلیہ کی بیماری کی تصدیق کی تھی، اس کے باوجود تبادلے کا حکم جاری کیا گیا جسے فیڈرل سروس ٹربیونل اور متعلقہ حکام نے برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے ذریعے 1.25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان
سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ حکومت کے پاس تبادلے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں تھی اور معاملے کو روٹین کی کارروائی کے طور پر نمٹایا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ویڈ لاک پالیسی کی خلاف ورزی قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی اسے افسران کی صوابدید پر چھوڑا جا سکتا ہے۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 34 اور 35 ریاست کو شادی، خاندان، خواتین کی شمولیت اور ان کی فلاح و بہبود کے تحفظ کا پابند بناتے ہیں، لہٰذا سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔






