اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری ویڈیو بیان میں نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے میں کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کے لیے 1.25 ارب ڈالرز کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آنے والے برسوں میں ایگزم بینک کے مالی تعاون کے منصوبے کے تحت ریکوڈک کان کی تعمیر، جدید آلات کی فراہمی اور انتظامی ضروریات کے لیے دو ارب ڈالرز مالیت کے امریکی آلات اور خدمات پاکستان کو فراہم کی جائیں گی، جس سے یہ منصوبہ عالمی معیار کے مطابق استوار ہوگا۔
نیٹلی بیکر کے مطابق اس منصوبے کے باعث امریکا میں تقریباً چھ ہزار اور بلوچستان میں سات ہزار افراد کو روزگار ملے گا، جو دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ کان کنی کے شعبے میں ایک ماڈل پروجیکٹ ثابت ہوگا، جو امریکی ایکسپورٹرز کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مقامی کمیونیٹیز اور شراکت دار اداروں کے لیے بھی روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمت میں ایک بار پھر سے اضافہ، نئی قیمت کیا ہے؟
امریکی ناظم الامور نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے معاہدوں کو امریکی سفارت کاری کا اہم حصہ بنائے ہوئے ہے اور امریکی کمپنیاں پاکستان کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق ایگزم بینک کی 1.25 ارب ڈالرز کی مالی معاونت کے تحت امریکا–پاکستان شراکت داری بلوچستان میں معاشی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور جدید معدنیاتی شعبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔






