سفارتی ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین دوستی، دفاعی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، انفرااسٹرکچر اور علاقائی استحکام سمیت مختلف امور زیر غور آئیں گے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں خصوصی طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے جاری منصوبوں اور نئے اقتصادی اہداف پر بھی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے چینی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات فراہم کرنے اور صنعتی تعاون بڑھانے سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف چین میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے سلسلے میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی قیادت پاک چین دوستی کو “آہنی برادرانہ تعلقات” کی نئی مثال قرار دے سکتی ہے۔
دورے کے دوران توانائی، آئی ٹی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی نئی پیشکشیں بھی دے گا تاکہ مقامی صنعت اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کا 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور سے رابطہ
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور غیرملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سرگرم سفارتکاری پر توجہ دے رہا ہے۔اس دورے کے نتائج آئندہ برسوں میں پاکستان کی اقتصادی سمت پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔







