وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایکس پر جاری بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کی جانے والی ’غیرمعمولی کوششوں‘ اور خطے کی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے ساتھ رابطوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد کی جائے گی۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں سے رابطے علاقائی امن، استحکام اور مسئلے کے فوری سفارتی حل کے لیے اہم پیشرفت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے حوالے سے ان کے عزم کو سراہتا ہے۔
اسحاق ڈار نے نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل رابطہ کاری اور سفارتی کاوشوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے اور انہیں بامعنی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ایرانی قیادت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امن عمل کو آگے بڑھانے میں تعمیری کردار ادا کیا۔
بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، علاقائی شراکت داروں اور دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق وہ 28 فروری سے مسلسل مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے رابطے میں رہے، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے تعاون نے معاملات کو مثبت سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور امن کے لیے ان کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس حساس سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کیا اور مذاکرات کے دوران پاکستان کی نمائندگی کی۔
انہوں نے وزارت خارجہ کی جانب سے مذاکراتی عمل کے دوران کی گئی سفارتی کوششوں اور تعاون کو بھی سراہا۔







