ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے ڈیجیٹل میڈیا کے صحافیوں سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل، آزادیِ صحافت، صوبائی حقوق، صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے بھی تفصیلی جوابات بھی دیے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے نوجوان صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ حق اور سچ کا ساتھ دیں اور جہاں ہماری غلطی ہو وہاں بھی اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے جائز تنقید ضرور کریں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے دورہ پنجاب سے متعلق کچھ اہم تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق دورے سے قبل پنجاب کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق کوٹ لکھپت جیل جانے کے لیے خط لکھا گیا اور اجازت بھی فراہم کی گئی، مگر شاہ محمود قریشی نے ان سے ملاقات سے انکار کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے چند مقامات کے دورے کا شیڈول تھا لیکن پنجاب کی قیادت کے شکوؤں کے بعد فیصلہ ہوا کہ اسیران کے گھروں کا دورہ کیا جائے۔ تاہم وہاں بھی دو سے تین گھروں میں تلخ صورتحال پیدا ہوئی۔
پنجاب اسمبلی کے دورے کے دوران کے پی قیادت کچھ یوٹیوبرز کو ایم پی ایز ظاہر کرکے لے آئی، جس پر پنجاب کے اراکین اسمبلی نے اعتراضات اٹھائے۔
اسی طرح پنجاب اسمبلی میں سوالات کے بعد فیصلہ ہوا کہ اپنے حامی یوٹیوبرز اور صحافیوں کو بلایا جائے، تاہم عالیہ حمزہ نے چند مزید نام بھی شامل کروائے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کی قیادت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے رویے اور مینا آفریدی کی زبان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ مینا آفریدی اپنے بیان پر معذرت کریں، تاہم وہ فی الحال اس سے انکار کر رہی ہیں۔
پنجاب میں اسٹریٹ موومنٹ کے آغاز سے زیادہ توجہ سوشل میڈیا پر بیانیہ بنانے پر تھی، لیکن پارٹی اختلافات کے باعث یہ حکمتِ عملی فی الحال ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ حامی یوٹیوبرز، صحافی اور مخالفین سبھی یہی سوال کر رہے ہیں کہ تیرہ سال کی کارکردگی دکھائیں، کیونکہ بیانیے نعروں سے نہیں، خدمت سے بنتے ہیں۔






