انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اعلان کیا کہ 145 کے ایوان میں سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی ضم قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، ان کے انتخاب پر اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان نے انہیں مبارک باد پیش کی۔
سہیل آفریدی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے چوتھے وزیراعلیٰ ہیں، ان سے قبل پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے استعفے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ گورنر ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق گورنر کو 8 اور 11 اکتوبر کو وزیراعلیٰ کے دفتر سے دو الگ الگ استعفے موصول ہوئے جن پر دستخط مختلف پائے گئے۔
فیصل کریم کنڈی نے اس حوالے سے علی امین گنڈا پور کو 15 اکتوبر کو دوپہر 3 بجے گورنر ہاؤس طلب کر لیا ہے تاکہ استعفے کی صداقت کی تصدیق کی جا سکے۔ گورنر نے کہا ہے کہ وہ شہر سے باہر ہیں اور واپسی کے بعد یہ معاملہ آئین کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
علی امین گنڈا پور نے گورنر کے اعتراض کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں استعفوں پر دستخط میرے ہی ہیں اور میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔
انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ 8 اکتوبر کو جمع کرایا گیا استعفیٰ، جسے پہلے مسترد کیا گیا تھا، اب تسلیم کر لیا گیا ہے، اور دونوں استعفوں پر ان کے مستند دستخط موجود ہیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیرِ اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب ایک جمہوری عمل ہے، اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو غیر جمہوری تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ نے وفاق میں جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اور اب خیبر پختونخوا میں بھی جمہوریت کو دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
ڈاکٹر سیف نے کہا کہ سہیل آفریدی عمران خان کا انتخاب ہیں اور انہیں ہر حال میں وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔
انہوں نے گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ڈرامہ بازیوں” سے باز آئیں اور جمہوری عمل کو آگے بڑھنے دیں۔
وزیرِ قانون آفتاب عالم نے کہا ہے کہ آج ہر صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، لیکن حکومت انتخابی عمل کو آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کرے گی تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام قائم رہے۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے رہنما اور وزیراعلیٰ کے امیدوار مولانا لطف الرحمان نے انتخابی عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک علی امین گنڈا پور کے استعفے کی باقاعدہ منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنا آئین کے منافی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے بھی مولانا لطف الرحمان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کبھی بھی موجود وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے نیا وزیراعلیٰ منتخب نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ابھی بھی اکثریت ہے، اس لیے چند دن انتظار کیا جائے اور جب استعفیٰ باضابطہ منظور ہو جائے، تب نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے۔
دوسری طرف، اسمبلی سیکریٹریٹ نے نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان، مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہ جہان یوسف اور پیپلز پارٹی کے ارباب زرک خان کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔
اسمبلی کے 145 رکنی ایوان میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار ہوں گے۔
حکومتی اتحاد کو 93 ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ اپوزیشن کے پاس 52 ارکان ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان متفقہ امیدوار لانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر علی امین گنڈا پور کے استعفے کے معاملے پر آئینی وضاحت نہ ہوئی تو صوبے میں ایک نیا آئینی بحران جنم لے سکتا ہے، تاہم حکومت پر عزم ہے کہ آج ہی قائدِ ایوان کا انتخاب مکمل کیا جائے گا۔







