پشاور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو پارٹی کے بانی عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے نامزد کیا تھا اور وہ اس وقت صوبے میں مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کے بقول موجودہ قیادت پر پارٹی کو مکمل اعتماد حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی کارکردگی تسلی بخش ہے اور وہ صوبے میں گورننس، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں، اس لیے انہیں ہٹانے یا تبدیل کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف چلنے والی مہم محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے، تاہم ایسے عناصر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کے اندر اتحاد موجود ہے اور قیادت اپنے فیصلوں پر قائم ہے۔

بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر کہا کہ پارٹی اپنی صفوں میں نظم و ضبط کو برقرار رکھے گی اور تمام فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام اور حکومتی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

مزید پڑھیں: لوگوں کو کم لاگت پر اپنی چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے حال ہی میں سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد صوبائی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی۔

واضح رہے کہ  خیبرپختونخوا میں قیادت کے حوالے سے جاری بحث پارٹی کے اندرونی معاملات کی عکاسی کرتی ہے، تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔