بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی، اپوزیشن کا احتجاج

بجٹ تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ انہیں بھی بجٹ پر اظہارِ خیال کا مکمل موقع دیا جائے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے ارکان کو ہدایت کی کہ اگر وہ کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے تو واک آؤٹ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اپنی نشستوں پر بیٹھ کر ایوان کی کارروائی جاری رکھیں۔

سندھ بجٹ 2026-27: ترقیاتی پروگرام اور مجموعی حجم

مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ کے ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 3,715 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، جب کہ بجٹ کا حجم ساڑھے تین ہزار ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے اور  ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 656 ارب روپے سے زائد تجویز کیا گیا ہے، جس میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 641 ارب روپے، جب کہ ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 350 ارب روپے سے زائد اور غیر منظور شدہ منتقل شدہ اسکیموں کے لیے 34 ارب 58 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ فارن پروجیکٹ اسسٹنس کے تحت 256 ارب روپے سے زائد رقم شامل کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے کے لیے اربوں روپے مختص

وزیراعلیٰ نے تعلیم اور صحت کو ترجیحی شعبے قرار دیا ہے۔ تعلیمی شعبے کے مختلف محکموں کے لیے 25 ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38 ارب 21 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کالجز، جامعات، ٹیکنیکل اور پیشہ ورانہ تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صحت کے شعبے میں نئے منصوبوں اور فنڈز کا اعلان

صحت کے شعبے کے لیے 17 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ مختلف جاری اور نئے صحت منصوبوں کے لیے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں تاکہ صوبے میں طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

بلدیاتی شعبہ بجٹ کا سب سے بڑا مستفید

بلدیاتی شعبہ بجٹ کا سب سے بڑا مستفید ہونے والا شعبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بلدیات اور کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 99 ارب 76 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صاف پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں پر کتنا خرچ ہوگا؟

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبے کے لیے 40 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس رقم میں سے 731 پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اسکیموں کے لیے 36 ارب 18 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاکہ پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے۔

زراعت اور کسانوں کے لیے کیا کچھ ہے؟

زراعت کے شعبے میں حکومت نے کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کے لیے 4 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ زرعی توسیع، زرعی مارکیٹنگ، زرعی میکانائزیشن، تحقیق اور واٹر مینجمنٹ کے متعدد منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔

آبپاشی کے منصوبوں کے لیے کتنی رقم رکھی گئی؟

آبپاشی کے منصوبوں کے لیے 30 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور آبی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی نظام کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی؟

ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے 39 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے 7 ارب 94 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کراچی کے شہریوں کے لیے بجٹ میں متعدد اہم منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت نے 4 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسیں خریدنے کی منظوری دی ہے، جو روزانہ تقریباً 35 ہزار مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ کراچی میں مزید 100 الیکٹرک بسیں شامل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ میسر آ سکے۔

متوسط طبقے کے لیے سولر فنانسنگ اور مفت سولر سسٹمز

بجٹ میں متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سندھ حکومت 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز بھی تقسیم کرے گی تاکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

مزدور طبقے کے لیے کم از کم اجرت میں اضافہ

محنت کش طبقے کے لیے بھی اہم اعلان کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

دیگر شعبوں کے لیے مختص فنڈز

دیگر شعبوں میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 9 ارب 22 کروڑ روپے، ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 6 ارب 30 کروڑ روپے، توانائی کے شعبے کے لیے 5 ارب 18 کروڑ روپے، ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے لیے 2 ارب 78 کروڑ روپے، جنگلات و جنگلی حیات کے لیے 2 ارب 39 کروڑ روپے، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے منصوبوں کے لیے 54 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ محکمہ خوراک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 14 ارب 11 کروڑ 63 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شہر کے 25 جاری میگا منصوبوں پر کام تیز کرنے اور انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، معاونینِ خصوصی، مشیروں، چیف سیکریٹری اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہدایات کے مطابق غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔