وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے سیاسی کیریئر کا 13واں اور مسلسل 11واں بجٹ ہے، جو ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

انہوں نے بجٹ تقریر میں سندھ کی ترقی، قومی استحکام، کراچی کی بحالی اور عوامی فلاح کو حکومت کی بنیادی ترجیحات قرار دیا۔

سرکاری ملازمین اور محنت کش طبقے کے لیے کیا ریلیف؟

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باوجود عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سندھ کی ریکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری

مراد علی شاہ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران سندھ میں 900 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس عرصے میں 952 ترقیاتی اسکیمیں مکمل ہوئیں جن میں 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کی اسکیموں کی تکمیل شامل ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کے ثمرات صوبے کے تمام اضلاع تک پہنچ رہے ہیں اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

کراچی پھر بجٹ کا مرکز بن گیا

بجٹ تقریر میں کراچی کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 816 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن پر 644 ارب روپے سے زائد لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔

مالی سال 2026-27 کے دوران صرف کراچی کے لیے 100 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ 500 ملین روپے سے زائد لاگت کے 167 بڑے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔

ٹریفک مسائل کے حل کے لیے نئے فلائی اوور اور انڈر پاس

کراچی میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے متعدد نئے منصوبے بجٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک 1.2 ارب روپے کی لاگت سے فلائی اوور، ملیر ہالٹ سے شارع فیصل تک 1.5 ارب روپے کا رائٹ ٹرن انڈر پاس، گجر نالہ کراسنگ پر 1.65 ارب روپے کا فلائی اوور، عظیم پورہ انٹرسیکشن اور شاہ فیصل روڈ منصوبے کے لیے اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان منصوبوں سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کا سفر آسان بنے گا۔

پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں پر خصوصی توجہ

کراچی کے سب سے بڑے مسئلے یعنی پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کے فور منصوبے سے منسلک پانی فراہمی کے نظام کی توسیع، ضلع شرقی اور وسطی کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، مرکزی واٹر ٹرنک مین سسٹم کی مرمت اور لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ نئی واٹر سپلائی لائن کی تنصیب اہم منصوبوں میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ برساتی نالوں کی بحالی، گجر نالہ کی تعمیر نو اور اسٹورم واٹر ڈرین منصوبوں کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ

شہر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے چھ جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے قیام، سالڈ ویسٹ پروگرام اور لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے بھی اربوں روپے رکھے گئے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں سے کراچی میں کچرے کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

صحت اور تعلیم کے شعبے کے لیے کیا رکھا گیا؟

بجٹ میں صحت کے شعبے کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ وبائی بیماریوں کے اسپتال کے لیے ایک ارب روپے، کراچی میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کے لیے ترقیاتی فنڈز، لیاری میں بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج منصوبہ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کراچی کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔

قومی استحکام اور سندھ کا کردار

مراد علی شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ نے قومی استحکام کے لیے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا اور قومی مفاد میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، تاہم این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے ایران بحران کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن اور مکالمے کی آواز بن کر ابھرا ہے۔

بجٹ کا خلاصہ

سندھ بجٹ 2026-27 میں ایک طرف سرکاری ملازمین اور محنت کش طبقے کو محدود مالی ریلیف دیا گیا ہے، جب کہ دوسری جانب کراچی سمیت پورے صوبے میں انفراسٹرکچر، پانی، صحت، تعلیم اور بلدیاتی منصوبوں کے لیے بڑے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

اب اصل امتحان ان اعلانات پر عملدرآمد کا ہوگا، کیونکہ سندھ کے عوام خصوصاً کراچی کے شہری ماضی کے مقابلے میں اس بار نتائج دیکھنے کے منتظر ہیں۔