پیکیج کے تحت چھوٹے کاشت کاروں کو فی ایکڑ ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوریاں یوریا کھاد دی جائیں گی، جب کہ زرعی آمدن ٹیکس کا سہ گنا نفاذ موخر کرکے 15 فیصد کی پرانی شرح بھی بحال کردی گئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اس پیکیج کا اعلان کیا، جہاں صوبائی وزراء شرجیل میمن، سردار بخش مہر اور مخدوم محبوب زمان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت فصل 2025-26 کے دوران آٹھ سے 12 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ اقدام 55 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا حصہ ہے، جس میں کھادوں پر نمایاں سبسڈی شامل ہے تاکہ کاشتکاری کے بڑھتے اخراجات کم کیے جا سکیں اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ابتدائی طور پر 4000 روپے فی من قیمت کی سفارش کی تھی جو پیداواری لاگت کے مطابق تھی، تاہم کسانوں کو فوری ریلیف دینے کے لیے وفاقی طور پر مقرر کردہ 3500 روپے فی من قیمت قبول کر لی گئی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ گندم خریداری کے عمل کو شفاف اور بروقت بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ بات چیت کے بعد زرعی آمدن ٹیکس کے نفاذ میں نرمی کی گئی ہے تاکہ کسانوں کو وقتی ریلیف دیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت شہری و دیہی دونوں علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ دیہی علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں اور شہروں میں اسٹریٹ کرائمز تشویش کا باعث ہیں، تاہم ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پولیس کو جدید تربیت، ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق فیصلے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس حوالے سے قومی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے، اور سندھ حکومت وفاقی پالیسی پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ واپسی کا عمل پُرامن اور قانونی طریقے سے انجام پائے گا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تصدیق شدہ بیج کی نقل و حرکت پر پابندی کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ کو اپنے ہم منصب سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ڈینگی کی وبا سے متعلق انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کو متحرک کر دیا گیا ہے اور بلدیاتی اداروں کو مچھر مار اسپرے مہم میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔