کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کوئی کیک نہیں کہ جسے کاٹ کر بانٹ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ توڑنے کی باتیں فضول ہیں، سندھ کی تقسیم ممکن ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کے ایجنڈے میں بلدیات سے متعلق کوئی ذکر شامل نہیں تھا، جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں ترمیم کے نکات پہلے ہی واضح کر دیے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم کے پیروکار ملک کو توڑنے کی باتیں کرتے تھے، اسی سوچ کے زیرِ اثر ایسی باتیں آج بھی کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنی ’’مردہ سیاست‘‘ میں جان ڈالنے کے لیے ایسے بیانات دے رہی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہم جذباتی ردعمل دیں تاکہ وہ اسے سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کریں۔
سندھ کے وزیر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام سیاسی حربے اب ناکام ہوچکے ہیں، ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے جس بلدیاتی انتخاب کا بار بار ذکر کیا، وہ دراصل زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے بائیکاٹ کیا گیا تھا کیونکہ انہیں شکست کا یقین تھا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ آئینی عدالتوں کا تصور میثاقِ جمہوریت میں بھی موجود تھا، کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کوئی شق خفیہ طور پر تسلیم نہیں کی۔







