اپنے بیان میں شرجیل میمن نے بتایا کہ ترقیاتی اسٹریٹجی کے تحت سیلاب سے متاثرہ 1,600 ثانوی اسکولوں کی تعمیرِ نو کے لیے 340 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں نو نئے کیڈٹ کالجز قائم کیے جائیں گے اور سکھر میں خواتین یونیورسٹی کا منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

سینیئر وزیر نے بتایا کہ سندھ پیپلز پارٹی کی حکومت سیلاب متاثرین کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کراچی اور دیگر شہروں میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک 20 لاکھ گھروں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے، تقریباً 14 لاکھ افراد کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور 3 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے جا چکے ہیں۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ 146.9 ارب روپے ایس آئی یو ٹی، ایس آئی سی وی ڈی، انڈس اسپتال اور سندھ کے بڑے اسپتالوں کو گرانٹس اِن ایڈ کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں سندھ سولر انرجی منصوبے کے لیے 69.97 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گھوٹکی، کندھ کوٹ پل اور دھابیجی انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے، جو صنعتی ترقی اور شہری فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں گے۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ شدید موسمی حالات کے خلاف مضبوط انفرااسٹرکچر کی تعمیر، سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی، تعلیم اور صحت، بہتر رابطہ کاری اور غربت میں کمی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔