پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیاسی منظرنامے، صوبوں کے درمیان تنازعات اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات پر مشاورت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی پنجاب قیادت کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ یہ اختلافات سیلاب زدگان کے معاوضوں اور چولستان کینال منصوبے میں پانی کے حقوق کے معاملے پر شروع ہوئے، جس کے بعد سندھ میں برسرِاقتدار پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
مسلم لیگ (ن) وفاق میں حکمران جماعت ہے، تاہم دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری بڑھتی جا رہی ہے۔
گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے اتحادی جماعت کو خبردار کیا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی واضح حمایت نہ ملی تو (ن) لیگ کو سینیٹ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر آپ پورا اتحاد توڑنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن یہ نہ سمجھیں کہ ہم ہر حال میں آپ کی حکومت کو سہارا دیتے رہیں گے، سینیٹ میں ہم سب سے بڑی جماعت ہیں اور ہمارے بغیر آپ کے لیے حالات آسان نہیں ہوں گے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کو منانے زرداری ہاؤس نواب شاہ پہنچ گئیں
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے سیاسی دراڑیں کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطے تیز کر دیے ہیں۔ صدر زرداری نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے بھی رابطہ کر کے دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محسن نقوی جلد متعلقہ اداروں اور رہنماؤں سے رابطہ کر کے تنازع کم کرنے کی کوشش کریں گے۔







