لاہور میں الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت آرٹیفیشل گراس سے تیار کردہ پہلے منفرد اسپورٹس ارینا کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے موثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث صحت، تعلیم اور کھیلوں کے شعبے بری طرح متاثر ہیں۔
انہوں نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کی بحالی اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کا نقصان پورے ملک کو ہوا ہے، ضروری نہیں کہ کرکٹ کھیلنے والا ہی قوم کی اسپورٹس پالیسی تشکیل دے۔ صوبائی حکومتیں وسائل پر قابض ہیں، حکمران سرکاری اسکولوں پر توجہ نہیں دیتے اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع نہیں مل رہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعے نوجوان نسل کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور کھیلوں میں آگے لانے کے لیے "زی کنیکٹ پروگرام" کا آغاز کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے کھیلوں کے میدان یا تو ویران ہو چکے ہیں یا قبضہ مافیا کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔ تعلیم طبقاتی نظام کا شکار ہے اور ہر طرف مافیا کا راج ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سابق سیاستدان نے ادارہ جاتی کھیل ختم کر کے بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے درمیان کھیلوں کے مقابلے فروغ پانے چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کھیلوں کی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر جامع اور مربوط قومی اسپورٹس پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔







