نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق  مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2400 ارب روپے ملے، جن میں سے کراچی کو 800 ارب روپے ملنے چاہیے تھے مگر اسے صرف 100 ارب روپے ملے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ سارے پیسے وزیراعلیٰ سندھ کو دے دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے مینڈیٹ پر دو بار ڈاکہ ڈالا گیا، سیاسی خلاء پیپلزپارٹی کے خلاف سازشوں کا نتیجہ ہے: بلاول بھٹو


انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے زرعی ٹیکس کے خلاف تھی، مگر آئی ایم ایف کے دباؤ پر زرداری نے آخرکار زرعی ٹیکس نافذ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے کی بات اس وقت کی جائے گی جب کراچی اور سندھ کو ان کے حقوق نہیں دیے جائیں، اور صوبے بنانے کے قانون میں آئینی ترمیم بالکل ممکن ہے۔