تفصیلات کے مطابق صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے بحری جہاز اور اس پر سوار پاکستانی شہریوں کی رہائی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

بحری قزاقوں نے پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے پاکستان کے معروف انسانی حقوق کے رہنما اور انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی سے براہِ راست رابطہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قزاقوں کے سرغنہ نے ایک تحریری پیغام کے ذریعے اپنے مطالبات انصار برنی تک پہنچائے۔

انصار برنی ٹرسٹ کے ذرائع کے مطابق صومالی قزاقوں نے اغوا کیے گئے پاکستانی شہریوں اور بحری جہاز کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرسٹ حکام کا کہنا ہے کہ قزاقوں کے اس پیغام اور مطالبات سے یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صورتحال سے باخبر رہ سکیں۔

انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق اس معاملے کی نگرانی کرنے والے حکومتی عہدیداروں اور متعلقہ اعلیٰ حکام تک بھی قزاقوں کا پیغام اور مطالبات پہنچائے جا رہے ہیں، تاکہ پاکستانی شہریوں کی باحفاظت وطن واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔