شپنگ ذرائع کے مطابق ’’اونر 25‘‘ نامی تیل بردار جہاز پر 21 اپریل کو اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ایک اہم سمندری راستے سے گزر رہا تھا۔ قزاقوں نے اسلحے کے زور پر جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا اور عملے کو یرغمال بنا لیا۔ حملے کے بعد جہاز کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میری ٹائم وزارت کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں، تاہم اب تک جہاز پر موجود پاکستانی عملے سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ جہاز بھیجنے والی کمپنی یا ایجنسی کی جانب سے بھی تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کے انڈونیشی کپتان کی رہائی کے لیے انڈونیشا کی حکومت قزاقوں سے رابطے میں ہے اور ممکنہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود انہیں اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

سمندری امور کے ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب واقع سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہیں، جہاں سے تیل اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑی ترسیل ہوتی ہے، تاہم یہ علاقہ ماضی میں بھی بحری قزاقی کے واقعات کا مرکز رہا ہے۔

یاد رہے  کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں بلکہ عالمی ترسیلی نظام (سپلائی چین) کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی سطح پر سمندری سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں بحری قزاقی کے واقعات میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کر دیا ہے۔