عدالت نے دونوں کو 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں کے حتمی فیصلے تک نافذ العمل رہے گا۔

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت رکھ رہی ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ایک وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز اگست 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے سے ہوا تھا۔

مقدمے میں سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ پھیلانے اور لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

جنوری 2026 میں اسلام آباد کی سیشن عدالت نے دونوں کو پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے سیکشن 9 کے تحت 5،5 سال قید اور 50،50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10،10 سال قید اور 3،3 کروڑ روپے جرمانہ جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت 2،2 سال قید اور 10،10 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

دونوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور سزا معطلی کی درخواستیں بھی دائر کیں۔ تاہم ان درخواستوں پر کارروائی مختلف مراحل میں ملتوی ہوتی رہی۔

مزید پڑھیں: انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری شوہر سمیت گرفتار، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا 'مکمل ہڑتال' کا اعلان

بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ سپریم کورٹ کے مطابق ہائیکورٹ میں معاملہ زیرِ سماعت ہونے کے باوجود درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باعث آج سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے اب دونوں کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کا اثر معطل کردیا ہے۔ عدالت کا یہ حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے حتمی فیصلے تک برقرار رہے گا۔